Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 5046
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس : الصحة والفراغ . رواه البخاري
دو قابل قدر نعمتیں
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ہیں کہ ان کے معاملہ میں بہت سے لوگ فریب اور ٹوٹا کھائے ہوئے ہیں (اور وہ دونوں نعمتیں) تندرستی اور فراغت ہیں۔ (بخاری)
تشریح
مذکورہ نعمتوں میں سے ایک نعمت تو تندرستی ہے یعنی جسم وبدن کا امراض سے محفوظ رہنا اور دوسری نعمت ہے اوقات کا غم روز گار کے مشاغل درمصروفیات اور تفکرات وتشویشات سے فارغ وخالی ہونا، چناچہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی غفلت لاپرواہی کی بنا پر ان دونوں نعمتوں کی قدر نہیں کرر ہے اور ان کے معاملہ میں اپنے نفس سے فریب کھا کر ان کو مفت میں ہاتھ سے جانے دیتے ہیں جیسا کہ کوئی شخص خریدوفروخت کے معاملہ میں کسی کے فریب اور دھوکہ کا شکار ہو کر اپنے مال ومتاع کو مفت میں گنوا دیتا ہے اور نقصان برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی میں ان لوگوں کے تئیں حسرت و افسوس کا اظہار ہے جو ان نعمتوں سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاتے، بایں طور کہ نہ تو اپنی صحت و تندرستی کے زمانہ دین ودنیا کی بھلائی و فائدہ کے کام کرتے ہیں اور نہ فرصت کے اوقات کو غنیمت جان کر ان میں آخرت کے امور کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ہاں جب ان کی صحت و تندرستی خراب ہوجاتی ہے دنیا بھر کے فکرات لاحق ہوجاتے ہیں اور غم روزگار کی گردش ان کے اوقات کو مختلف قسم کی مشغولیتوں اور تشویشوں میں جکڑ لیتی ہے اس وقت ان کو ان نعمتوں کی قدر ہوتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کیسے بیش قیمت مواقع گنوادئیے اور اس قول النعمۃ اذا فقدت عرفت (کہ نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ جاتی رہتی ہے) کا مصداق بنتے ہیں۔ ملا علی قاری (رح) نے حدیث کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان نعمتوں کی حقیقی قدر نہیں کرتے، بایں طور کہ وہ ان نعمتوں کے حاصل ہونے کے زمانہ میں ایسے کام نہیں کرتے جن کے آخرت میں وہ محتاج ہوں گے اور پھر وہاں نادم ہوں گے کہ ہم نے دنیا میں اپنی عمر کے بیش قیمت اوقات کو کس طرح ضائع کردیا اور تندرستی و فراغت وقت کی جو نعمتیں ہمیں میسر تھیں ان کے جاتے رہنے سے پہلے ان کی قدر نہیں کی، حالانکہ اس وقت ان کی یہ ندامت ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ذالک یوم التغابن اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخرت میں اہل جنت اگر کسی بات پر حسرت و افسوس کریں گے تو ان لمحات پر کریں گے جو انہوں نے دنیا میں اس طرح گزار دئیے ہوں گے کہ ان میں انہوں نے اللہ کو یاد نہیں کیا ہوگا۔
Top