Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 4983
عن زيد بن طلحة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لكل دين خلقا وخلق الإسلام الحياء . رواه مالك مرسلا . ورواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان عن أنس وابن عباس
حیاء کی تعریف وفضیلت
اور حضرت زید بن طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر دین اور مذہب میں ایک خلق ہے (یعنی ہر مذہب والوں میں ایک ایسی صفت و خصلت ہوتی ہے جو ان کی تمام صفتوں پر غالب اور ان کی ساری خصلتوں سے اعلی ہوتی ہے) اور اسلام کا وہ خلق حیاء ہے۔ اس روایت کو مالک نے بطریق ارسال نقل کیا ہے (کیونکہ زید صحابی نہیں ہیں بلکہ تابعی ہیں نیز ابن ماجہ اور شعب الایمان میں بیہقی نے اس روایت کو حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
یہاں حیاء سے اس چیز میں شرم و حیاء کرنا مراد ہے جس میں حیاء کرنا مشروع ہے چناچہ جن چیزوں میں شرم و حیاء کرنے کی اجازت نہیں ہے جیسے تعلیم و تدریس، امربالمعروف ونہی عن المنکر ادائیگی حق کا حکم دینا خود حق کو ادا کرنا اور گواہی دینا وغیرہ وغیرہ ان میں شرم و حیاء کرنے کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ حدیث کا زیادہ مفہوم بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر دین کے لوگوں پر کوئی نہ کوئی وصف و خصلت غالب رہتی ہے چناچہ اہل اسلام پر جس طبعی وصف و خصلت کو غالب قرار دیا گیا ہے وہ حیاء ہے اور باوجودیکہ حیاء بھی ان اوصاف و خصائل میں سے ہے جو تمام ادیان و مذاہب کے لوگوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہیں لیکن اسی وصف و حیاء کو خاص طور پر اہل اسلام پر غالب کیا گیا ہے اور دوسرے مذہب کے لوگوں میں اس جوہر کو بہت کم رکھا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حیاء نہ صرف یہ کہ طبعی خاصیتوں اور خصلتوں میں سب سے اعلی درجہ رکھتی ہے بلکہ یہ وہ جوہر ہے جس سے انسانی اخلاق و کردار کی تکمیل بھی ہوتی ہے اور چونکہ حضور نے فرمایا کہ بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں) اس لئے اس جوہر کے ذریعہ ملت اسلامیہ کے اخلاق اوصاف کو کمال کے درجہ پر پہنچایا گیا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ صرف حیاء ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ ہم سے پہلے کی امتوں میں تمام ہی اخلاق و خصائل ناقص تھے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور آپ کی برکت سے ملت اسلامیہ میں تمام اخلاق و خصائل کو کامل و مکمل کیا گیا اسی لئے ملت اسلامیہ کی اس خاصیت کو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ آیت (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس) (تم کو دنیا والوں کے لئے سب سے بہتر امت بنا کر پیدا کیا گیا ہے الخ۔ )۔۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے مذکورہ بالا روایت کو حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بطریق موقوفہ نقل نہیں کیا ہے جیسا کہ عبارت سے ظاہر اسلوب سے یہ گمان ہوسکتا ہے بلکہ بطریق مرفوع نبی کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کے طور پر نقل کیا ہے نیز مذکورہ عبارت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں یعنی ابن ماجہ اور بیہقی میں سے ہر ایک نے ان دونوں صحابی سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور یہ بھی احتمال ہوسکتا ہے کہ مذکورہ عبارت میں ان دونوں کا ذکر علی الترتیب ہو یعنی ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت انس ؓ سے اور بہیقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے، لیکن جامع صغیر میں اس حدیث کو ابن ماجہ کے سلسلہ کے ساتھ براویت حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نقل کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح بیہقی نے بھی اس روایت کو ان دونوں صحابی سے نقل کیا ہے۔
Top