Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
صحیح مسلم - نذر کا بیان - حدیث نمبر 1144
وعن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حد الساحر ضربة بالسيف . رواه الترمذيعن أسامة بن شريك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل خرج يفرق بين أمتي فاضربوا عنقه . رواه النسائي
ساحر کو قتل کردیا جائے
اور حضرت جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جادوگر کو حد (شرعی سزا) یہ ہے کہ اس کو تلوار سے قتل کردیا جائے (ترمذی)
تشریح
علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ جادو کرنا حرام ہے۔ ویسے جادو کے مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، حضرت امام شافعی تو یہ فرماتے ہیں کہ جادوگر کو قتل کردیا جائے بشرطیکہ اس کا جادو موجب کفر ہو اور وہ توبہ نہ کرے۔ حضرت امام ملک اور بعض دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ ساحر کافر ہے، سحر کفر ہے، سحر سیکھنا سیکھانا بھی کفر ہے ساحر کو قتل کردی جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے خواہ اس نے کسی مسلمان پر سحر کیا ہو یا کسی ذمی پر۔ اور حنیفہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ساحر کا یہ عقیدہ ہو کہ کار ساز شیطان کی ذات ہے کہ وہ میرے لئے جو چاہتا ہے کرتا ہے تو وہ کافر ہے اور اگر یہ عقیدہ ہو کہ سحر، مجرد خیال ہے تو وہ کافر نہ ہوگا بلکہ فاسق ہے اور سحر کا سیکھنا حرام ہے۔ درمختیار کے حاشیہ طحطاوی میں یہ لکھا ہے کہ سحر کی تین قسمیں ہیں۔ (١) فرض۔ (٢) حرام۔ (٣) جائز اگر کوئی شخص اہل حرب کے ساحر کے توڑ کے لئے سحر سیکھے تو وہ فرض ہے، اگر کوئی شخص اس مقصد کے لئے سیکھے کہ اس کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا تو حرام ہے اور اگر اس مقصد کے لئے سیکھے کہ اس کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت پیدا کرے گا تو جائز ہے۔ سحر کے کفر ہونے میں اگرچہ حنبلی علماء کے اختلافی اقوال ہیں لیکن تنقیح میں ان کی کتابوں کے حوالہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ ساحر کی توبہ کا اعتبار نہ کیا جائے۔ ساحر اپنے سحر کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان پر سحر کرے اس کو قتل کردیا جائے۔ سحر کی طرح کہانت، نجوم، رمل اور علم شعبدہ کا سیکھنا اور سیکھانا بھی حرام ہے اور اس کے ذریعہ کمایا ہوا مال بھی حرام ہے۔ حضرت اسامہ ابن شریک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص امام وقت کے خلاف خروج کرے اور اس طرح وہ میری امت میں تفرقہ ڈالے تو اس کی گردن اڑا دو (نسائی) تشریح امام وقت، امت کے اتحاد واجماعیت کا بنیادی محور ہوتا ہے اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہر مسلمان پر اسی لئے لازم ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف اسلام کی تعلیم اجتماعیت کا تقاضہ پورا ہوتا ہے بلکہ مسلمان ایک جھنڈے کے نیچے متفق ومتحد رہ کر اسلام دشمن ومسلم مخالف طاقتوں کے مقابلہ پر ایک مضبوط چٹان بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ اسلام کی شان و شوکت کو باقی رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اس اجتماعی دائرہ سے نکلتا ہے تو وہ صرف ایک برائی کا مرتکب نہیں ہوتا بلکہ پوری امت کے اتفاق و اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی اعتراض ہو تو اس کے اس شک وشبہ اور اعتراض کو دور کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی حرکت سے باز نہ آئے اور اصلاح کی کوئی کوشش اس کو سرکشی و بغاوت کی راہ سے واپس نہ لاسکے تو پھر اس کو مار ڈالا جائے جیسا کہ حضرت علی نے خوارج کے ساتھ کیا۔
Top