Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 2670
عن نافع قال : إن ابن عمر كان يقف عند الجمرتين الأوليين وقوفا طويلا يكبر الله ويسبحه ويحمده ويدعو الله ولا يقف عند جمرة العقبة . رواه مالك
جمرات پر وقوف
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ پہلے دونوں مناروں کے نزدیک بہت دیر تک ٹھہرتے اور (وہاں اللہ کی تکبیر، اللہ کی تسبیح اور اللہ کی تحمید میں مشغول رہتے، نیز (ہاتھ اٹھا کر) اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ (مالک)
تشریح
پہلے دونوں مناروں سے مراد جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ جب ان دونوں جمروں پر رمی کرچکے تو وہاں ٹھہر کر دعا وغیرہ میں مشغول رہتے، چناچہ ان جمرات پر وقوف کرنا اور وقوف کے دوران دعا وزاری اور تسبیحات وغیرہ میں مشغول رہنا مسنون ہے۔ مدت وقوف کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ ان جمرات پر اتنی دیر تک ٹھہرنا چاہئے جتنی دیر میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ ویسے بعض اہل اللہ کے بارے میں تو یہ منقول ہے کہ وہ ان جمرات پر اتنی دیر تک کھڑے رہے ہیں کہ ان کے پاؤں ورم کر گئے تھے۔ اور جمرہ عقبہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد دعا کے لئے اس جمرہ پر نہ تو قربانی کے دن ٹھہرتے تھے اور نہ دوسرے ہی دنوں میں وقوف کرتے تھے تاہم اس سے دعا کا بالکل ترک کرنا لازم نہیں آتا۔ باب النحر میں وہ روایت آئے گی جس میں حضرت ابن عمر ؓ نے یہ وضاحت کی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Top