Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 1698
وعن عمرو بن العاص قال لأبنه وهو في سياق الموت : إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا ثم أقيموا حول قبري قدر ما ينحر جزور ويقسم لحمها حتى أستأنس بكم وأعلم ماذا أراجع به رسل ربي . رواه مسلم
حضرت عمرو بن عاص کی وصیت
حضرت عمرو بن عاص ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اس وقت جب کہ وہ حالت نزع میں تھے اپنے صاحبزادے (حضرت عبداللہ) کو یہ وصیت کی کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازہ کے ہمراہ نہ تو کوئی نوحہ کرنے والی ہو اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنے لگو تو میرے اوپر مٹی آہستہ آہستہ (یعنی تھوڑی تھوڑی کر کے) ڈالنا پھر دفن کردینے کے بعد میری قبر کے پاس دعائے استقامت و مغفرت اور ایصال ثواب کے لئے اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ میں تمہاری وجہ سے آرام پا جاؤں اور بغیر کسی وحشت و گھبراہٹ کے جان لوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔ (مسلم)
تشریح
زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ تھا کہ فخر و بڑائی اور ریا کے طور پر میت کے ساتھ آگ لے کر چلتے تھے تاکہ اس کے ذریعہ خوشبو وغیرہ جلا سکیں یا کسی اور کام میں لاسکیں شریعت اسلام نے اس سے منع فرمایا اس لئے حضرت عمرو بن عاص نے یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کے ساتھ نہ تو نوحہ کرنے والی ہو کہ یہ خالص غیر اسلامی طریقہ اور نہ آگ ہو کہ یہ بھی زمانہ جاہلیت کی ایک نشانی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر دان میں اگر بتی جلا کر بلا ضرورت مشعلیں و پنچ و شاخ وغیرہ روشن کر کے جنازہ کے ساتھ لے کر چلنا یا جنازہ کے ہمراہ ککڑ والوں کا آگ لے کر چلنا ممنوع ہے۔ یہاں تک کہ میں آرام پا جاؤں، کا مطلب یہ ہے کہ قبر پر تمہاری دعائے استقامت و مغفرت، ذکر و قرأت قرآن کریم اور استغفار و ایصال ثواب کی وجہ سے سوال و جواب کے مرحلہ سے میں باآسانی گزر جاؤں اور قبر میں اللہ کی رحمتوں سے ہمکنا ہوجاؤں۔ چناچہ ابوداؤد کی ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کسی مردہ کی تدفین سے فارغ ہوجاتے تو اس کی قبر پر کھڑے ہوجاتے اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے کہ اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے دعائے استقامت و اثبات مانگو کیونکہ اس وقت قبر میں اس سے سوال و جواب ہو رہا ہے۔
Top