Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 4172
وَ عَنْ جَابِرٍص قَا لَ کَانَ رَ سُوْلُ ا للّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَۃَ فِی ا لْاُ مُوْ رِ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یَقُوْلُ اِذَاھَمَّ اَحَدُ کُمْ بِالْاَمْرِ فَلْیَرْ کَعْ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیْضَۃِ ثُمَّ لْیَقُلْ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَ اَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِ نَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَااَ عْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَاا لْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَا شِیْ وَعَا قِبَۃِ اَمْرِیْ اَوْ قَالَ فِیْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَےَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِےْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِیْ فِیْ دِےْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ اَوْقَالَ فِیْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْلِیَ الْخَےْرَ حَےْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ قَالَ وَےُسَمِّیْ حَاجَتَہُ۔ (صحیح البخاری)
استخارہ کی نماز و دعا
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ ہمارے تمام کاموں کے لئے دعائے استخارہ اس طرح سکھاتے تھے۔ جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے (یعنی آپ ﷺ اس دعا کی تعلیم کا بہت اہتمام رکھتے تھے) چناچہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی کسی کام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت (نفل) پڑھے پھر یہ دعائے پڑھے۔ اے اللہ! میں تیرے علم کے وسیلے سے تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے (نیک عمل کرنے کی) تجھ سے قدرت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں کیونکہ تو ہی (ہر چیز پر) قادر ہے میں (تیری مرضی کے بغیر کسی چیز پر) قادر نہیں ہوں، تو (سب چیزوں کو) جانتا ہے میں کچھ نہیں جانتا اور تو پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یعنی مقصد) میرے لئے میرے دین میں، میری دنیا میں، میری زندگی اور میری آخرت میں، یا فرمایا اس جہان (یعنی دنیا) میں اس جہان (آخرت) میں بہتر ہے تو اسے میرے لئے مہیا فرما دے اور اسے میرے لئے آسان فرما دے، پھر اس میں میرے واسطے برکت دے اور اگر تو اس امر (یعنی میرے مقصد اور میری مراد) کو میرے دین، میری زندگی اور میری آخرت میں، یا فرمایا اور اس جہان اور اس جہان میں برا جانتا ہے تو مجھے اس سے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور میرے لئے جہاں بھلائی ہو وہ مہیا فرما پھر اس کے ساتھ مجھے راضی کر۔ روای کہتے ہیں کہ لفظ ہذا لامر کی جگہ) اپنی حاجت کا نام لینا چاہیے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اگر ایسے کام کا ارادہ کیا جائے جو مباح ہو اور اس کی کامیابی و بھلائی میں شک و تردد ہو مثلاً سفر کا ارادہ ہو، تجارت شروع کرنے کا خیال ہو، نکاح کرنا چاہتا ہو یا اسی قسم کے دوسرے مباح کام تو ایسے موقع پر مناسب اور بہتر یہ ہے کہ استخارے کو اپنا راہبر و مشیر بنایا جائے۔ کھانے پینے یا اسی قسم کے دوسرے مقرر و متعین کاموں کے لئے استخارہ نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی کام خیر محض ہو تو اس میں استخارہ نہ کیا جائے استخارے کی برکت یہ ہے کہ کام شروع کرنے والے کے حق میں جو بات بھی بہتر ہوتی ہے وہ اس کے دل میں جگہ لے لیتی ہے اور دل اپنے حق میں بہتر بات ہی کا فیصلہ کرتا ہے۔ استخارے کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہو کر کسی بھی وقت علاوہ اوقات مکروہ کے استخارے کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے بعد مذکورہ دعا پڑھی جائے۔ اگر سنت کی، تحیۃ المسجد کی یا تحیۃ الوضو کی پڑھی جانے والی نمازوں میں سے ہی دو رکعت پڑھنے کے بعد دعاء استخارہ پڑھ لی جائے تو بھی جائز ہے لیکن اولیٰ یہی ہے کہ علیحدہ سے دو رکعت نماز بطور خاص استخارہ کی نیت ہی سے پڑھنی چاہیے۔ اس نماز میں جو بھی سورت پڑھنی چاہیے پڑھ سکتا ہے کسی خاص سورت کا تعین نہیں ہے تاہم بعض روایتوں میں ہے کہ قل یا اَیُّھَا الکافرون اور قل ہو اللہ پڑھنا بہتر ہے۔ دعا کے الفاظ او عاجل امری میں صرف اور صرف راوی کے شکل کو ظاہر کر رہے ہیں، یعنی راوی کو شک واقع ہوگیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فی دینی و معاشی و عاقبۃ امری فرمایا ہے یا ان تینوں الفاظ کی جگہ عاجل امری و اجلہ فرمایا۔ بہر حال افضل یہ ہے کہ اس دعا میں یہ دونوں جملے پڑھے جائیں۔ حدیث کی آخری الفاظ ویسمی حاجتہ کا مطلب یہ ہے کہ دعا میں لفظ ھذا الا مر بطریق عموم واقع ہے استخارہ کرنے والا اپنی دعا میں اس جگہ اپنا مقصد اور اپنی مراد ظاہر کرے مثلا ھذا الامر کی بجائے یوں کہے ھذا السفر یا ھذا الا قامۃ یا اسی طرح جو بھی مقصد ہو ذکر کرے نیز یہ بھی جائز ہے کہ پہلے ھذالامر کہہ لے اس کے بعد اپنا مقصد اور اپنی مراد کا ذکر کرے۔ ایک اور روایت میں یہ مختصر استخارہ بھی منقول ہے کہ اگر کسی آدمی کو جلدی ہو اور کوئی وقتی و ہنگامی کام ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صرف یہ پڑھ لے۔ اَللّٰھُمَّ اخِرْلِیْ وَاَخْتَرْلِیْ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی اِخْتِیَارِیْ۔ اے اللہ! ( میرے حق میں تیرے نزدیک جو بہتر اور مناسب ہو اسے) میرے لئے پسند اور میرے لئے اختیار فرما اور مجھے میرے اختیار کا پابند نہ بنا۔ حضرت انس ؓ ایک روایت میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ انس! جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سات مرتبہ استخارہ کرو، پھر اس کے بعد (اس کا نتیجہ) دیکھو، تمہارے دل میں جو کچھ ڈالا جائے (یعنی استخارے کے نتیجے میں بارگاہ حق کی جانب سے، جو چیز القاء کی جائے اسی کو اختیار کرو کہ تمہارے لئے وہی بہتر ہے۔
Top