چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔
ام ہانی سے روایت ہے کہ میں گئی رسول اللہ ﷺ کے پاس جس سال فتح ہوا مکہ تو پایا میں نے آپ ﷺ کو غسل کرتے ہوئے فاطمہ بیٹی آپ ﷺ کی چھپائے ہوئے تھیں آپ ﷺ کو ایک کپڑے سے کہا ام ہانی نے سلام کیا میں نے آپ ﷺ کو تو پوچھا آپ ﷺ نے کون ہے میں نے کہا ام ہانی بیٹی ابوطالب کی تب فرمایا آپ ﷺ نے خوشی ہو ام ہانی کو پھر جب فارغ ہوئے آپ ﷺ غسل سے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک کپڑا پہن کر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے بھائی علی کہتے ہیں میں مار ڈالوں گا اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی ہے وہ شخص فلاں بیٹا ہبیرہ کا ہے پس فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہم نے پناہ دی اس شخص کو جس کو توں نے پناہ دی اے ام ہانی۔ کہا امی ہانی نے اس وقت چاشت کا وقت تھا۔