جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان
خارجہ بن زید سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ زید بن ثابت کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے زید نے پوچھا کیوں انہوں نے کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے مجھے چھوڑ دیا زید نے کہا تو نے کیوں اختیار دیا انہوں نے کہا تقدیر میں یوں ہی تھا زید نے کہا اگر تو چاہے تو رجعت کرلے کیونکہ ایک طلاق پڑی ہے ابھی تو اس کا مالک ہے۔