صحیح مسلم - حدود کا بیان - حدیث نمبر 2856
عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْأَنْفَالِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْفَرَسُ مِنْ النَّفَلِ وَالسَّلَبُ مِنْ النَّفَلِ قَالَ ثُمَّ عَادَ الرَّجُلُ لِمَسْأَلَتِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَلِکَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ الرَّجُلُ الْأَنْفَالُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِي کِتَابِهِ مَا هِيَ قَالَ الْقَاسِمُ فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ حَتَّی کَادَ أَنْ يُحْرِجَهُ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرُونَ مَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ صَبِيغٍ الَّذِي ضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
ہتھیاروں کو نفل میں دنیے کا بیان
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ؛ " سنا میں نے ایک شخص کو، عبداللہ بن عباس سے نفل کے معنی پوچھتا تھا "، ابن عباس نے کہا کہ " گھوڑا اور ہتھیار نفل میں داخل ہیں۔ پھر اس شخص نے یہی پوچھا، پھر ابن عباس نے یہی جواب دیا۔ پھر اس شخص نے کہا میں وہ انفال پوچھتا ہوں جن کا ذکر، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ قاسم کہتے ہیں کہ وہ برابر پوچھے گیا، یہاں تک کہ تنگ ہونے لگے عبداللہ بن عباس اور کہا انہوں نے تم جانتے ہو اس شخص کی مثال ؛ صبیغ کی سی ہے جس کو حضرت عمر بن خطاب نے مارا تھا۔
Top