Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (969 - 1049)
Select Hadith
969
970
971
972
973
974
975
976
977
978
979
980
981
982
983
984
985
986
987
988
989
990
991
992
993
994
995
996
997
998
999
1000
1001
1002
1003
1004
1005
1006
1007
1008
1009
1010
1011
1012
1013
1014
1015
1016
1017
1018
1019
1020
1021
1022
1023
1024
1025
1026
1027
1028
1029
1030
1031
1032
1033
1034
1035
1036
1037
1038
1039
1040
1041
1042
1043
1044
1045
1046
1047
1048
1049
معارف الحدیث - کتاب الاذکار والدعوات - حدیث نمبر 1155
عَنْ عُمَرَ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَدَّهُنَّ فِي يَدَيَّ جِبْرِيلُ وَقَالَ جِبْرِيلُ هَكَذَا أُنْزِلَتْ مِنْ عِنْدِ رَبِّ الْعِزَّةِ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهُمَّ وَتَرَحَّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا تَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهُمَّ وَتَحَنَّنْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا تَحَنَّنْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهُمَّ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا سَلَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ (رواه البيهقى فى شعب الايمان والديلمى)
درود شریف کے خاص کلمات
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جبرئیل امین نے میرے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر دُرود شریف کے یہ کلمات تعلیم فرمائے اور بتایا کہ رب العزت جل جلالہ کی طرف سے یہ اسی طرح اُترے ہیں وہ کلمات یہ ہیں۔ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ..... الخ (مسند فردوس دیلمی، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اس دُرود میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے گھر والوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے صلوٰۃ اور برکت اور ترحم کی استدعا کے علاوہ سلام اور تحسنن کی استدعا کی گئی ہے۔ تحسنن کے مفہوم کو اردو زبان میں شفقت اور پیار دُلار سے ادا کیا جا سکتا ہے اور سلام کے معنی ہیں ہر برائی اور ناپسندیدہ چیز سے سلامتی ار حفاظت۔ اس حدیث کے بارے میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کنز العمال جلد اول میں جہاں یہ حدیث ذکر کی گئی ہے وہیں سند کے لحاظ سے اس کے ضعیف ہونے کی تصریح بھی کر دی گئی ے۔ پھر اسی کی دوسری جلد میں اسی مضمون کی ایک اور حدیث اور دُرود شریف کے یہی کلمات حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے بھی صاحب مستدرک ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری کی "معرفۃ علم الحدیث" کے حوالے سے ان کی مسلسل سند کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں اور اس سند کے بھی بعض راویوں پر سخت جرح کی گئی ہے، ساتھ ہی سیوطی سے نقل کیا گیا ہے کہ انہیں اس حدیث کے بعض اور "طریقے" بھی ملے، نیز حضرت انس سے بھی قریبا اسی مضمون کی ایک حدیث روایت کی گئی ہے جو ابن عساکر کے حوالے سے کنز العمال میں بھی درج ہے اور اصحاب فن کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ضعیف حدیث تعدد طرق کی وجہ سے قابلِ قبول ہو جاتی ہے۔ خاص کر فضائلِ اعمال میں ایسی حدیث سب کے نزدیک قابلِ عمل ہے۔ ملا علی قاریؒ نے شرح شفاء میں ھاکم کی روایت کردہ حضرت علی والی حدیث کے راویوں پر سخت جرح کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ "غایۃ الامر یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث کو بھی قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ " (شرح شفاء ص: ۴۷۳، ج:۳) انہی سب باتوں پر نظر رکھتے ہوئے یہ حدیث ضعیف ہونے کے باوجود یہاں درج کر دی گئی ہے۔ یہاں تک جو احادیث درج ہوئیں جن میں دُرود و سلام کے کلمات تلقین فرمائے گئے ہین، یہ سب مرفوع حدیثیں تھیں، یعنی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات تھے۔ اور ان میں دُرود و سلام کے جو کلمات تعلیم فرمائے گئے ہیں۔ ان سب کی بنیاد وحی ربانی پر ہے۔ حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کی حدیث کے ذیل میں اوپر گزر چکا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے بشیر بن سعد نے دریافت کیا کہ ہم آپ پر درود کس طرح بھیجا کریں؟ تو آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، یہاں تک کہ وحی آئی اس کے بعد آپ ﷺ نے درودِ ابراہیمی تلقین فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دُرود شریف کے بارے میں آپ ﷺ کو بنیادی رہنمائی وحی سے ملی تھی، اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ دُرود و سلام کے جو کلمات بھی کسی وقت آپ ﷺ نے تلقین فرمائے ان کی بنیاد وحی پر ہے اور یہ فضیلت دُرود و سلام کے انہیں کلمات کو حاصل ہے جو کسی وقت آپ ﷺ نے تعلیم فرمائے۔ ان کے علاوہ بعض صحابہ کرام اور دوسرے سلف صالحین سے دُرود و سلام کے جو کلمات منقول ہیں ان کو یہ خصوصیت اور فضیلت ھاصل نہیں ہے، اگرچہ ان میں سے بعض لفظی اور معنوی لحاظ سے بہت ہی بلند ہیں اور ان کی مقبولیت میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ان میں سے ایک جو کتبِ حدیث میں فقیہ الامۃ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیاگیاہے، اور دوسرا جو حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے مروی ہے یہاں درج کئے جا رہے ہیں اور انہی پر روایات کا یہ سلسلہ ختم کیا جا رہا ہے۔
Top