Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1050 - 1370)
Select Hadith
1050
1051
1052
1053
1054
1055
1056
1057
1058
1059
1060
1061
1062
1063
1064
1065
1066
1067
1068
1069
1070
1071
1072
1073
1074
1075
1076
1077
1078
1079
1080
1081
1082
1083
1084
1085
1086
1087
1088
1089
1090
1091
1092
1093
1094
1095
1096
1097
1098
1099
1100
1101
1102
1103
1104
1105
1106
1107
1108
1109
1110
1111
1112
1113
1114
1115
1116
1117
1118
1119
1120
1121
1122
1123
1124
1125
1126
1127
1128
1129
1130
1131
1132
1133
1134
1135
1136
1137
1138
1139
1140
1141
1142
1143
1144
1145
1146
1147
1148
1149
1150
1151
1152
1153
1154
1155
1156
1157
1158
1159
1160
1161
1162
1163
1164
1165
1166
1167
1168
1169
1170
1171
1172
1173
1174
1175
1176
1177
1178
1179
1180
1181
1182
1183
1184
1185
1186
1187
1188
1189
1190
1191
1192
1193
1194
1195
1196
1197
1198
1199
1200
1201
1202
1203
1204
1205
1206
1207
1208
1209
1210
1211
1212
1213
1214
1215
1216
1217
1218
1219
1220
1221
1222
1223
1224
1225
1226
1227
1228
1229
1230
1231
1232
1233
1234
1235
1236
1237
1238
1239
1240
1241
1242
1243
1244
1245
1246
1247
1248
1249
1250
1251
1252
1253
1254
1255
1256
1257
1258
1259
1260
1261
1262
1263
1264
1265
1266
1267
1268
1269
1270
1271
1272
1273
1274
1275
1276
1277
1278
1279
1280
1281
1282
1283
1284
1285
1286
1287
1288
1289
1290
1291
1292
1293
1294
1295
1296
1297
1298
1299
1300
1301
1302
1303
1304
1305
1306
1307
1308
1309
1310
1311
1312
1313
1314
1315
1316
1317
1318
1319
1320
1321
1322
1323
1324
1325
1326
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
معارف الحدیث - کتاب الاذکار والدعوات - حدیث نمبر 109
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ لَهُ: اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللهِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللهِ، فَيُؤْتَى مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَإِنَّهُ رُوحُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيُؤتَى عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُوتَى، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الْآنَ، يُلْهِمُنِيهِ اللهُ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ، أَوْ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ "، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ، قَالَ: هِيَهِ، فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هِيَهِ قُلْنَا: مَا زَادَنَا، قَالَ: قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ، أَوْ كَرِهَ أَنْ يُحَدِّثَكُمْ، فَتَتَّكِلُوا، قُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا، فَضَحِكَ وَقَالَ: {خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ} ، مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ، " ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ - أَوْ قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ - وَلَكِنْ وَعِزَّتِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي وَجِبْرِيَائِي، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، " (رواه البخارى ومسلم)
شفاعت
انسؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: جب قیامت کا دن ہو گا (اور سب اولین و آخرین میدانِ حشر میں جمع ہوں گے) تو لوگوں میں سخت اضطراب اور اژدحام کی کیفیت ہو گی، پس وہ لوگ (یعنی اہلِ محشر کے کچھ نمائندے) آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، کہ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے (کہ ہمیں اس حالت سے چھٹکارا ملے) آدم علیہ السلام فرمائیں گے کہ میں اس کام کے لائق اور اس مرتبہ کا نہیں ہوں، لیکن تم کو چاہئے کہ ابراہیم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں (شاید وہ تمہارے کام آ سکیں) پس وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ان کےسامنے شفاعت کا اپنا سوال رکھیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کام کے لائق نہیں ہوں، لیکن تمہیں موسیٰ کے پاس جانا چاہیے وہ اللہ کے کلیم ہیں (جنہیں اللہ نے بلا واسطہ اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا ہے) شاید وہ تمہارا کام کر سکیں، پس وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے (اور اپنی وہی عرض ان کے سامنے رکھیں گے) وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں اس کام کے لائق نہیں ہوں، لیکن تمہیں عیسیٰ کے پاس جانا چاہیے وہ کلمۃ اللہ ہیں (یعنی اللہ نے ان کو انسانی پیدائش کے عام مقررہ اسباب کے بغیر صرف اپنے حکم سے پیدا کیا ہے، اور ان کو غیر معمولی قسم کی روح اور روحانیت بخشی ہے) تم ان کی خدمت میں جاؤ شاید وہ تمہارے لئے حق تعالیٰ سے عرض کرنے کی جرأت کر سکیں، پس یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے (اور ان سے شفاعت کی درخواست کریں گے) وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اور اس مرتبہ کا نہیں ہوں، تم کو (اللہ کے آخری نبی) محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے (رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ) پھر وہ لوگ میرے پاس آئیں گے، (اور شفاعت کے لیے مجھ سے کہیں گے) پس میں کہوں گا، کہ میں اس کام کا ہوں (اور یہ میرا ہی کام ہے) پس میں اپنے رب کریم کی بارگاہِ خاص میں حاضری کی اجازت طلب کروں گا، مجھے اجازت دے دی جائے گی (میں وہاں حاضر ہو جاؤں گا) اور اللہ تعالیٰ اس وقت مجھے اپنی خاص تعریفیں اپنی حمد کے لیے الہام فرمائیں گے (جو اس وقت مجھے معلوم نہیں ہیں) تو اس وقت میں انہی الہامی محامد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کروں گا، اور اس کے آگے سجدہ میں گر جاؤں گا (مسند احمد کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ےہ کہ آپ وہاں ایک ہفتہ تک سجدہ میں پڑے رہیں گے، اس کے بعد) اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو فرمایا جائے گا، کہ اے محمد! سر اُٹھاؤ، اورجو کہنا ہو کہو، تمہاری سنی جائے گی، اور جو مانگنا ہو مانگو تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری مانی جائے گی، پس میں کہوں گا اے پروردگار! میری امت، میری امت! (یعنی میری امت پر آج رحم فرمایا جائے اور اس کو بخش دیا جائے) پس مجھ سے کہا جائے گا، جاؤ اور جس کے دل میں جَو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، اس کو نکال لو، پس میں جاؤں گا، اور ایسا کروں گا (یعنی جن کے دل میں جَو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا، اس کو نکال لاؤں گا) اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ کرم کی طرف لوٹوں گا اور پھر ان ہی الہامی محامد کے ذریعے اس کی حمد و ثنا کروں گا، اور اس کے آگے پھر سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمایا جائے گا، اسے محمد! سر اُٹھاؤ، اور جو کہنا ہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور جو مانگنا ہو مانگو تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری شفاعت مانی جائے گی، پس میں عرض کروں گا اے پروردگار! میری امت، میری امت! تو مجھ سے فرمایا جائے گا، کہ جاؤ اور جن کے دل میں ایک ذرہ کے بقدر (یا فرمایا، کہ رائی کے دانہ کے بقدر) بھی ایمان ہو، ان کو بھی نکال لو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، کہ میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا (یعنی جن کے دلوں میں ذرہ برابر، یا رائی کے دانہ کے برابر نورِ ایمان ہو گا، ان کو بھی نکال لاؤں گا) اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ کرم کی طرف پھر لوٹوں گا اور پھر ان ہی الہامی محامد کے ذریعہ اُس کی حمد و ثنا کروں گ، اور اس کے آگے پھر سجدہ میں گر جاؤں گا پس مجھ سے فرمایا جائے گا، اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، اور جو کہنا ہو کہو تمہاری سنی جائے گی، اور جو مانگنا چاہو مانگو، تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، پس میں عرض کروں گا میرے رب! میری امت، میری امت! پس مجھ سے فرمایا جائے گا، جاؤ اور جن کے دل میں رائی کے دانہ سے کم سے کمتر بھی ایمان ہو، ان کو بھی نکال لو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ پس میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا (یعنی جن کے دل میں رائی کے دانہ سے کم سے کمتر بھی ایمان کا نور ہو گا، ان کو بھی نکال لاؤں گا) اور اس کے بعد چوتھی دفعہ پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ کرم کی طرف لوٹ آؤں گا، اور ان ہی الہامی محامد کے ذریعے اس کی حمد کروں گا پھر اس کے آگے سجدہ میں گر جاؤں گا، پس مجھ سے فرمایا جائے گا اے محمد! اپنا سر سجدہ سے اٹھاؤ، اور جو کہنا ہو کہا، تمہاری سنی جائے گی، اور جو مانگنا چاہو مانگو تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری سفارش مانی جائے گی، پس میں عرض کروں گا کہ اے پروردگار! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کے حق میں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ کام تمہارا نہیں ہے، لیکن میری عزت و جلال اور میری عظمت و کبریائی کی قسم، میں خود دوزخ سے ان سب کو نکال لوں گا، جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
شفاعت محشر میں پیش آنے والے جن واقعات کی اطلاع احادیث میں صراحت کے ساتھ دی گئی ہے اور جن پر ایک مومن کو یقین لانا ضروری ہے، ان میں سے ایک رسول اللہ ﷺ کی شفاعت بھی ہے، شفاعت کے متعلق حدیثیں اتنی کثرت سے وارد ہوئی ہیں کہ سب ملا کر تواتر کی حد کو پہنچ جاتی ہیں۔ پھر شفاعت کی ان حدیثوں کے مجموعہ سے سمجھ کر شارحین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کئی قسم کی ہو گی، اور بار بار ہو گی، سب سے پہلے جب کہ سارے اہلِ محشر اللہ کے جلال سے سراسیمہ اور خوفزدہ ہوں گے اور کسی کو لب ہلانے کی جرأت نہیں ہو گی، اور آدمؑ سے لیکر عیسیٰؑ تک تمام اولولعزم پیغمبر بھی "نفسی نفسی" کے عالم میں ہوں گے اور کسی کے لیے شفاعت کی جرأت نہ کر سکیں گے، تو اس وقت عام اہلِ محشر کی درخواست پر، اور ان کی تکلیف سے متاثر ہو کر رسول اللہ نیاز مندی اور حسن ادب کے ساتھ (جو آپ کے شایان شان ہے) بارگاہِ رب العزت میں اہل محشر کے لیے سفارش کریں گے، کہ ان کو اس کی فکر اور بےچینی کی حالت سے نجات دی جائے، اور ان کا حساب کتاب اور فیصلہ فرما دیا جائے۔ بارگاہِ جلالت میں اس دن یہ سب سے پہلی شفاعت ہو گی، اور یہ شفاعت صرف آپ ہی فرمائیں گے۔ اس کے بعد ہی حساب اور فیصلہ کا کام شروع ہو جائے گا، یہ شفاعت جیسا کہ عرض کیا گیا عام اہلِ محشر کے لیے ہو گی، اس لیے اس کو "شفاعت عظمیٰ" بھی کہتے ہیں، اس کے بعد آپ اپنی امت کے مختلف درجہ کے ان گنہگاروں کے بارے میں جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم کے سزاوار ہوں گے، یا جو جہنم میں ڈالے جا چکے ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ان کو معاف کر دیا جائے، اور جہنم سے ان کو نکالنے کی اجازت دے دی جائے، آپ کی یہ شفاعت بھی قبول ہو گی، اور اس کی وجہ سے خطا کار امتیوں کی بہت بڑی تعداد جہنم سے نکالی جائے گی، اس کے علاوہ کچھ صالحین امت کے لیے آپ اس کی بھیشفاعت کریں گے کہ ان کے لیے بغیر حساب کے داخلہ جنت کا حکم دے دیا جائے۔ اسی طرح اپنے بہت سے امتیوں کے حق میں آپ ترقی درجات کی بھی اللہ تعالیٰ سے استدعا کریں گے، حدیثوں میں شفاعت کے ان تمام اقسام اور واقعات کی تفصیل وارد ہوئی ہے۔ پھر حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ شفاعت کا دروازہ کھل جانے کے بعد اور انبیاء علیہم السلام، ملائکہ عظام اور اللہ کے دوسرے صالح اور مقرب بندے بھی اپنے سے تعلق رکھنے والے اہلِ ایمان کے حق میں شفارشیں کریں گے، یہاں تک کہ کم عمر میں فوت ہونے والے اہلِ ایمان کے معصوم بچے بھی اپنے ماں باپ کے لئے سفارشیں کریں گے، اسی طرح بعض اعمال صالحہ بھی اپنے عاملوں کے لیے سفارش کریں گے۔ اور یہ سفارشیں بھی قبول فرمائی جائیں گی، اور بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہو گی جن کی نجات اور بخشش ان ہی سفارشوں ہی کے بہانہ ہو گی۔ مگر لحاظ رہے کہ یہ سب شفاعتیں اللہ کے اذن سے اور اس کی مرضی اور اجازت سے ہوں گی، ورنہ کسی نبی اور کسی فرشتہ کی بھی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے بغیر کسی ایک آدمی کو بھی دوزخ سے نکال سکے۔ یا اس کا اذن اور ایما پائے بغیر کسی کے حق میں سفارش کے لیے زبان کھول سکے۔ قرآن پاک میں ہے: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ، إِلَّا بِإِذْنِهِ کون ہے جو اس کی بارگاہ میں بغیر اس کی اجازت کے کسی کی سفارش کر سکے۔ دوسرے موقع پر فرمایا گیا: وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى اور وہ نہیں سفارش کر سکیں گے مگر صرف اس کے لیے جس کے لیے اس کی رضا ہو۔ بلکہ علماء کرام نے جیسا کہ فرمایا ہے، شفاعت در اصل شفاعت کرنے والوں کی عظمت و مقبولیت کے اظہار کے لیے اور ان کے اکرام و اعزاز کے واسطے ہو گی، ورنہ حق تعالیٰ کے کاموں اور اس کے فیصلوں میں دخل دینے کی کسے مجال ہے۔ "يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، وَيَحْكُمُ مَا يُرِيدُ"اس کی شان یہ ہے۔ اس تمہید کے بعد ذیل میں بابِ شفاعت کی حدیثیں پڑھیئے! اس حدیث میں چند باتیں تشریح طلب ہیں: ۱۔ حدیث میں جو کے برابر، رائی کے دانہ کے برابر، اور رائی کے دانہ سے کم سے کمتر، دل میں ایمان ہونے کا جو ذکر ہے، اس سے مراد نورِ ایمان اور ثمرات ایمان کے خاص خاص درجے ہیں۔ جن کا ادراک ہم کو تو نہیں ہوتا، لیکن حضور ﷺ کی بصیرت اس وقت اس کا ادراک کر لے گی، اور آپ ان درجوں والوں کو اللہ کے حکم سے نکال لائیں گے۔ ۲۔ حدیث کے آخری حصے میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لیے تین دفعہ شفاعت فرمانے کے بعد چوتھی دفعہ حق تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ مجھے ان لوگوں کے بارے میں اجازت دی جائے جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو، اس کا مطلب بظاہر یہ ہے جن لوگوں نے آپ کی دعوتِ توحید کو تو قبول کر لیا، اور ایمان لے آئے، لیکن دوزخ سے نجات پانے اور جنت میں جانے کے لیے جو اور اعمال کرنا چاہئے تھے، وہ انہوں نے بالکل نہیں کئے، تو مطلب یہ ہواکہ رسول اللہ ﷺ آخر میں ایسے لوگوں کو بھی دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کرنے کی اجازت چاہیں گے جن کے پاس کسی درجہ کا مجرد ایمان اور توحید اعتقاد تو ہو گا لیکن عمل خیر سے وہ بالکل خالی ہوں گے (بخاری و مسلم ہی کی ابو سعید خدریؓ کی حدیث میں غالباً اسی گروہ کے حق میں "لَمْ يَعْمَلُوْا خَيْرًا قَطُّ" کے الفاظ آئے ہیں، جن کا مطلب یہی ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا ہو گا) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے "لَيْسَ ذَالِكَ لَكَ" یعنی ان مسکینوں کو جہنم سے نکالنے کا کام میں نے آپ کے لیے نہیں رکھا، یا مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے یہ سزا وار اور مناسب نہیں ہے، بلکہ یہ کام میری عزت و جلال اور میری عظمت و کبریائی اور شان "فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ" کے لیے ہی سزاوار ہے، اس لیے اس کو میں خود ہی کروں گا۔ اس عاجز کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لا کر احکام کی تعمیل بالکل نہیں کی، ایسوں کو دوزخ سے نکالنا پیغمبر کے لئے مناسب نہیں ہے، اس درجہ کا عفو و درگزر اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔ واللہ اعلم۔ ۴۔ معلوم ہوتا ہے اس روایت میں آدمؑ کے بعد اور ابراہیمؑ سے پہلے اہلِ محشر کے نوح علیہ السلام کی خدمت میں بھی حاضر ہونے کا ذکر ہے جو اس میں نہیں ہے۔ نیز اس میں صرف اپنی امت کے حق میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا ذکر ہے، حالانکہ قرین قیاس یہ ہے کہ پہلے آپ عام اہلِ محشر کے لیے حساب اور فیصلہ کی شفاعت فرمائیں گے جس کو "شفاعتِ کبریٰ" کہتے ہیں، پھر جب حساب کے نتیجہ میں بہت سے آپ کے امتی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے دوزخ کی طرف بھیج دئیے جائیں گے، تو آپ ان کو دوزخ سے نکالنے اور جنت میں داخل کرانے کے لئے شفاعت فرمائیں گے۔ واللہ اعلم۔ ۴۔ اہلِ محشر کے جو نمائندے کسی شفیع کی تلاش میں نکلیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے دل میں یہی ڈالے گا، کہ وہ پہلے آدم علیہ السلام کی خدمت میں اور پھر ان کی رہنمائی اور مشورہ سے نوح علیہ السلام کی خدمت میںإ اور پھر اسی طرح ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں یہ سب منجانب اللہ اس دن اس لئے ہو گا کہ عملی طور پر سب کو معلوم ہو جائے کہ اس شفاعت کا منصب اور "مقام محمود" اس کے آخری نبی کے لیے مخصوص ہے۔ بہر حال اس دن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور رفعتِ مقام کے برسرِ محشر اظہار کے لئے ہو گا۔
Top