Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (885 - 968)
Select Hadith
885
886
887
888
889
890
891
892
893
894
895
896
897
898
899
900
901
902
903
904
905
906
907
908
909
910
911
912
913
914
915
916
917
918
919
920
921
922
923
924
925
926
927
928
929
930
931
932
933
934
935
936
937
938
939
940
941
942
943
944
945
946
947
948
949
950
951
952
953
954
955
956
957
958
959
960
961
962
963
964
965
966
967
968
معارف الحدیث - کتاب الصوم - حدیث نمبر 438
عَنْ جَابِرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ ، وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ » (رواه احمد)
نماز کے لئے وضو کا حکم
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور (یعنی وضو) ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
ان دونوں حدیثوں میں طہور یعنی وضو کو نماز کی کنجی فرمایا گیا ہے۔ گویا جس طرح کوئی شخص کسی مقفل گھر میں کنجی سے اس کا تالا کھولے بغیر داخل نہیں ہو سکتا، اسی طرح بغیر وضو کے نماز میں داخلہ نہیں ہو سلتا۔ ان چاروں حدیثوں کی تعبیر میں اگرچہ کچھ فرق ہے لیکن حاصل اور مدعا سب کا یہی ہے کہ نماز کے قابل قبول ہونے کےلئے واضح شرط ہے۔ نماز چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور م یں حاضری اور اسے مخاطب و مناجاۃ کی اعلیٰ اور انتہائی شکل ہے، جس کے آگے اس دنیا میں ممکن نہیں، اس لئے اس کے ادب کا حق تو یہ تھا کہ ہر نماز کے لئے سارے جسم کے غسل اور بالکل پاک صاف اچھا لباس پہننے کا حکم دیا جاتا لیکن چونکہ اس پر عمل بہت مشکل ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے از راہِ کرم صرف اتنا ضروری قرار دیا کہ نماز پاک کپڑے پہن کر پڑھی جائے اور سارے جسم کے غسل کے بجائے صرف وضو کر لیا جائے جس میں وہ سارے ظاہری اعضاء دھل جاتے ہیں جو انسان کے جسم میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور اس حیثیت سے وہی سارے جسم کے قائم مقام قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ نیز ہاتھ پاؤں اور چہرہ اور سر یہی وہ اعضاء ہیں جو عام طور پر لباس سے باہر رہتے ہیں اس لئے وضو میں صرف انہی کے دھونے اور مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں وضو نہ ہونے کی حالت میں طبیعت میں جو ایک خاص قسم کا روحانی تکدر اور انقباض ہوتا ہے اور وضو کرنے کے بعد انشراح و انبساط کی ایک خاص کیفیت اور ایک خاص طرح کی لطافت و نورانیت جو انسان کے باطن میں پیدا ہوتی ہے۔ جن بندگانِ خدا کو ان کیفیتوں کا احساس اور تجربہ ہوتا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ نماز کے لئے وضو کو لازمی شرط قرار دیے جانے کا اصل راز کیا ہے، باقی اتنی بات تو ہم سب عوام بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مقدس اور عالی بارگاہ میں حاضری کا یہ ادب ہے۔ اللہ کے جو بندے صرف اتنی بات سمجھ کر بھی وضو کریں گے۔ ان شاء اللہ وہ بھی اپنے وضو میں ایک خاص لذت و نورانیت محسوس کریں گے۔
Top