Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (242 - 403)
Select Hadith
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
287
288
289
290
291
292
293
294
295
296
297
298
299
300
301
302
303
304
305
306
307
308
309
310
311
312
313
314
315
316
317
318
319
320
321
322
323
324
325
326
327
328
329
330
331
332
333
334
335
336
337
338
339
340
341
342
343
344
345
346
347
348
349
350
351
352
353
354
355
356
357
358
359
360
361
362
363
364
365
366
367
368
369
370
371
372
373
374
375
376
377
378
379
380
381
382
383
384
385
386
387
388
389
390
391
392
393
394
395
396
397
398
399
400
401
402
403
معارف الحدیث - کتاب الاخلاق - حدیث نمبر 627
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي : « سَلْ » فَقُلْتُ : أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ : « أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ » قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ. قَالَ : « فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ » (رواه مسلم)
سجدہ کی فضیلت
ربیعہ بن کعب اسلمی (جو اصحاب صفہ میں سے تھے اور سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ رہتے تھے) بیان فرماتے ہیں کہ: میں ایک رات کو حضور ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کی خدمت میں تھا (جب آپ ﷺ تہجد کے لئے رات کو اٹھے) تو میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر حاضر خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے (مسرت اور انبساط کے خاص عالم میں) مجھ سے فرمایا: " ربیعہ کچھ مانگو " (آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے دل میں اگر کسی خاص چیز کی چاہت اور آرزو ہو تو اس وقت مانگ لو میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کروں گا، اور امید ہے کہ وہ تمہاری مراد پوری کر دے گا)۔ ربیعہؓ کہتے ہیں۔ میں نے عرج کیا۔ میری مانگ یہ ہے کہ جنت میں آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی یا اس کے سوا کچھ اور؟ میں نے عرض کیا: میں تو بس یہی مانگتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اپنے اس معاملہ میں سجدوں کی کثرت کے ذریعہ میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مقربین بارگاہ خداوندی پر کبھی کبھی ایسے احوال آتے ہیں کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت رحمت حق متوجہ ہے، اور جو کچھ مانگا جائے امید ہے کہ ان شاء اللہ مل ہی جائے گا، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت آنحضرت ﷺ نے ربیعہ بن مالک کی خدمت سے متاثر ہو کر ان سے فرمایا کہ « سَلْ » (جس چیز کی تمہیں چاہت ہو وہ مانگو) غالبا وہ کوئی ایسی ہی گھڑی تھی، لیکن جب انہوں نے اس کے جواب میں " جنت میں حضور ﷺ کی رفاقت " مانگی اور مکرر دریافت کرنے پر بھی یہی کہا کہ: " مجھے تو بس یہی چاہئے اس کے سوا کچھ نہیں " تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ (پھر اپنے اس معاملہ میں میری مدد کرو سجدوں کی کثرت کے ذریعہ) گویا اس ارشاد کے ذریعہ آپ نے ان کو بتایا کہ تم جو جنت میں میری رفاقت چاہتے ہو یہ بہت بلند درجہ اور عظیم مرتبہ ہے، میں تمہارے واسطے اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کرتا ہوں اور کروں گا لیکن اتنا بلند مقام حاصل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تم بھی اس کا استحقاق پیدا کرنے کی عملی کوشش کرو، اور وہ خاص عمل جو اس منزل تک پہنچانے میں خصوصیت کے ساتھ مدد گار ہو سکتا ہے اللہ کے حضور میں سجدوں کی کثرت ہے لہذا تم اس کا خاص اہتمام کر کے اپنے اس معاملہ میں میری مدد کرو، اور اپنے عمل سے میری دعا کو قوت پہنچاؤ۔ واضح رہے کہ حضرت ربیعہؓ کی اس حدیث اور اس سے اوپر والی حضرت ثوبانؓ کی حدیث میں کثرت سجود سے مراد نمازوں کی کثرت ہے، لیکن چونکہ جنت اور اس میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت حاصل ہونے میں نماز کے دوسرے ارکان و اجزاء سے زیادہ سجدہ کو دخل ہے اس لئے بجائے کثرت صلوٰۃ کے کثرت سجود کا لفظ استعمال کی گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Top