Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (141 - 241)
Select Hadith
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
معارف الحدیث - کتاب الرقاق - حدیث نمبر 1995
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى المِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ» فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، فَعَجِبْنَا لَهُ، وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ، يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ المُخَيَّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا. (رواه البخارى ومسلم)
وفات اور مرض وفات
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے (صحابہ کرامؓ کو خطاب کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی بہاروں اور نعمتوں میں سے جس قدر چاہے لے لے، یا (آخرت کی) جو نعمتیں اللہ کے پاس ہیں، ان کو لے لے ..... تو اس بندے نے (آخرت کی وہ نعمتیں) پسند کر لیں جو اللہ کےپاس ہیں ..... یہ سن کر ابو بکرؓ رونے لگے اور انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ ہم اور ہمارے ماں باپ آپ ﷺ پر سے قربان ہوں ..... (حدیث کے راوی ابو سعید خدری کہتے ہیں) کہ ہم کو ابو بکرؓ کے اس حال اور اس بات پر تعجب ہوا اور لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان بزرگوار کو دیکھو! حضور ﷺ تو اس بات کی خبر دے رہے ہیں، کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا تا کہ یا تو وہ دنیا کی بہاروں نعمتوں میں سے جس قدر چاہے پسند کرے یا آخرت کی وہ نعمتیں جو اللہ کے پاس ہیں پسند کرے ..... اور یہ بزرگوار ابو بکر کہہ رہے ہیں کہ "ہم اور ہمارے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں" (آگے ابو سعید خدری فرماتے ہین کہ جب جلدی ہی حضور ﷺ وفات پا گئے تو معلوم ہو گیا کہ) آپ ﷺ ہی وہ بندے تھے، جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ اختیار دیا تھا (اور معلوم ہو گیا کہ) ابو بکرؓ علم و دانش اور فرواست میں ہم سب سے فائق تھے (انہوں نے وہ حقیقت سمجھ لی جو ہم میں سے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر رونق افروز ہو کر یہ خطاب کب فرمایا تھا، صاحب مشکوٰۃ نے الفاظ کی کچھ کمی بیشی کے ساتھ سنن دارمی کے حوالہ سے۔ اس خطبہ کے متعلق حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت نقل کی ہے اس میں صراحت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ خطاب مرض وفات ہی میں فرمایا تھا اور یہ حضرت کا آخری خطاب تھا، اس کے بعد حض ﷺ ر ﷺ نے مسجد شریف میں کوئی خطاب نہیں فرمایا یہاں تک کہ وصال فرما گئے۔ اور صحیح مسلم کی ایک روایت سے (جس کے راوی حضرت جندب ہیں) معلوم ہوتا ہے کہ وفات سے دن پہلے (یعنی جمعرات کے دن) آپ نے یہ خطاب فرمایا تھا۔ صاحب مشکوٰۃنے "باب وفات النبی ﷺ " میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے یہ حدیث صرف اتنی ہی نقل کی ہے جو یہاں درج کی گئی، لیکن صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں یہ حدیث حضرت ابو بکر ؓ، کے فضائل کے باب میں بھی نقل کی گئی ہے اور دونوں میں یہ اضافہ ہے کہ حضور نے اسی خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ: «إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ - أَوْ مَوَدَّتُهُ - لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ» ترجمہ: یہ حقیقت ہے کہ لوگوں میں سے جس شخص نے میرے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کیا اپنے مال سے اور اپنی صحت (یعنی خادمانہ رفاقت) سے وہ ابو بکر ہے اور اگر میں اپنے پروردگار کے سوا کسی کو خلیل (یعنی جانی دوست) بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ لیکن اسلامی اخوت و مودت کا خاص تعلق ابو بکرے سے ہے، (اسی کے ساتھ آپ نے ہدایت فرمائی کہ) مسجد میں کھلنے والے سب دروازے بند کر دئیے جائیں سوائے ابو بکر کے دروازے کے (بس اسی کو باقی رکھا جائے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اس خطاب میں (جو وفات سے صرف پانچ دن پہلے آپ ﷺ نے فرمایا تھا اور جو مسجد شریف میں آپ کی زندگی کا آخری خطاب تھا) اپنے سفر آخرت کے قریب ہونے کی طرف اشارہ فرمانے کے ساتھ یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ امت میں جو مقام و مرتبہ ابو بکر کاس ہے، وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ فرما کر کہ مسجد میں سب دروازے دبند کر دئیے جائیں صرف ایک دروازہ ابو بکر کا باقی رہے یہ اشارہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد ابو بکر ہی کا وہ تعلق مسجد سے رہے گا جو میرا تھا (ملحوظ رہے کہ عہد نبوت کی مسجد نبوی ہماری مسجدوں کی طرح صرف نماز کی مسجد نہیں تھی بلکہ وہ تمام کارہائے نبوت کا مرکز تھا)۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اس خطاب میں اور بھی چند اہم ہدایات فرمائی تھیں۔
Top