شراب کی تجارت
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورة البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ١٠٥ (٢٢٢٦)، صحیح مسلم/المساقاة ١٢ (١٥٨٠)، سنن ابی داود/البیوع ٦٦ (٣٤٩٠)، سنن النسائی/البیوع ٨٩ (٤٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٦) (صحیح )
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Verses at the end of Sural Al-Baqarah concerning usury were revealed, the Messenger of Allah ﷺ went out and forbade dealing in wine." (Sahih)
Top