سنن ابنِ ماجہ - فتنوں کا بیان - حدیث نمبر 1063
حدیث نمبر: 4000
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا،‏‏‏‏ فَكَانَ فِيمَا قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ،‏‏‏‏ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا،‏‏‏‏ فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ،‏‏‏‏ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا،‏‏‏‏ وَاتَّقُوا النِّسَاءَ.
عورتوں کا فتنہ۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے، تو اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا: دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ سنو! تم دنیا سے بھی بچاؤ کرو، اور عورتوں سے بھی ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفتن ٢٦ (٢١٩١)، (تحفة الأشراف: ٤٣٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٤٢) دون قیامہ خطیباً (صحیح) (سند میں علی بن زید ضعیف ہے لیکن شواہد و متابعات کی بناء پر یہ صحیح ہے )
وضاحت: ١ ؎: ان دونوں چیزوں سے بقدر ضرورت ہی دلچسپی رکھو، نیز اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کے موافق مسلمانوں کو بہت دنیا دی اور مشرق اور مغرب کا ان کو حکمراں بنایا، اور مدت دراز تک ان کی حکومت قائم رہی، جب انہوں نے بھی اگلے لوگوں کی طرح بےاعتدالی، ظلم اور کجروی اختیار کی تو پھر ان سے چھین لی، آج کل نصاریٰ کی بہار ہے، ان کو تمام دنیا کی حکومت اور دولت مل رہی ہے اب دیکھنا ہے کہ ان کی میعاد کب تک ہے۔
Top