سنن ابنِ ماجہ - دیت کا بیان - حدیث نمبر 1877
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةً.
نابالغ لڑکیوں کے نکاح ان کے باپ کرسکتے ہیں
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ ﷺ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٢٠، ومصباح الزجاجة: ٦٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٠) (صحیح) (سند میں ابو عبیدہ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ /٢٣٠ )
وضاحت: ١ ؎: ام المومنین عائشہ ؓ کے فضائل و مناقب بیشمار ہیں، اور وہ آپ ﷺ کی تمام بیویوں میں خدیجہ الکبری ؓ کے بعد سب سے افضل ہیں، اور بعضوں نے خدیجہ الکبری سے بھی ان کو افضل کہا ہے، غرض وہ آپ ﷺ کی خاص چہیتی تھیں اور آپ کی بیویوں میں صرف وہی کنواری تھیں، اور اس کم سنی میں آپ ؓ کا یہ حال تھا کہ علم و فضل، قوت حافظہ اور عقل و دانش میں بڑی بوڑھی عورتوں سے سبقت لے گئی تھیں۔
It was narrated that Abdullah .said: "The Prophet ﷺ married Aisha (RA) when she was seven years old, and consummated the marriage with her when she was nine, and he passed away when she was eighteen." (Sahih)
Top