سنن ابنِ ماجہ - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 1510
حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى:‏‏‏‏ رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.
رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے کی وفات اور نماز جنازہ کا ذکر
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأدب ١٠٩ (٦١٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: ایک حدیث میں ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے، اور اس حدیث میں ہے کہ اگر نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتے، ایسا ہونا محال تھا کیونکہ نبی اکرم ﷺ خاتم الانبیاء تھے، آپ ﷺ کے بعد دوسرا کوئی نبی نہیں ہوسکتا، اور تقدیر الٰہی بھی ایسی ہی تھی، جب تو آپ کے صاحبزادوں میں سے کوئی زندہ نہ بچا، جیسے طیب، طاہر اور قاسم، خدیجہ ؓ سے، اور ابراہیم ماریہ ؓ سے، یہ چار صاحبزادے بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اگرچہ یہ لازم نہیں ہے کہ نبی کا بیٹا بھی نبی ہی ہو۔
Ismail bin Abu Khalid said: "I said to Abdullah bin Abi Awla: Did you see Ibrahim, the son of the Messenger of Allah ﷺ He said: He died when he was small, and if it had been decreed that there should be any Prophet ﷺ after Muhammad ﷺ his son would have lived. But there is no Prophet ﷺ after him:" (Sahih)
Top