سنن ابنِ ماجہ - پاکی کا بیان - حدیث نمبر 727
حدیث نمبر: 3969
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ لَهُ شَرَفٌ،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ:‏‏‏‏ إِنَّ لَكَ رَحِمًا وَإِنَّ لَكَ حَقًّا،‏‏‏‏ وَإِنِّي رَأَيْتُكَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْأُمَرَاءِ،‏‏‏‏ وَتَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهِ،‏‏‏‏ وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ،‏‏‏‏ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ،‏‏‏‏ فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،‏‏‏‏ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ،‏‏‏‏ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ،‏‏‏‏ فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِهَا سُخْطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ،‏‏‏‏ قَالَ عَلْقَمَةُ:‏‏‏‏ فَانْظُرْ وَيْحَكَ مَاذَا تَقُولُ،‏‏‏‏ وَمَاذَا تَكَلَّمُ بِهِ،‏‏‏‏ فَرُبَّ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِي أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ،‏‏‏‏ مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ.
فتنہ میں زبان روکے رکھنا۔
علقمہ بن وقاص ؓ کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے (دہرا رشتہ ہے) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی ؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہوگا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا ۔ علقمہ ؓ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث ؓ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہوجاتا ہوں ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٨)، وقد أخر جہ: سنن الترمذی/الزہد ١٢ (٢٣١٩)، موطا امام مالک/الکلام ٢ (٥)، مسند احمد (٣/٤٦٩) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: علقمہ ؓ کا مقصد یہ تھا کہ بات کہنے میں احتیاط اور غور لازم ہے، یہ نہیں کہ جو منہ میں آیا کہہ دیا، غیر محتاط لوگوں کی زبان سے اکثر ایسی بات نکل جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوتی ہے، پس وہ ایک بات کی وجہ سے جہنمی ہوجاتا ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever calls the Adhin for seven years, seeking reward (from Allah), Allah will decree for him deliverance from the Fire.” (Da’if)
Top