Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5373 - 5466)
Select Hadith
5373
5374
5375
5376
5377
5378
5379
5380
5381
5382
5383
5384
5385
5386
5387
5388
5389
5390
5391
5392
5393
5394
5395
5396
5397
5398
5399
5400
5401
5402
5403
5404
5406
5407
5408
5409
5410
5411
5412
5413
5414
5415
5416
5417
5418
5419
5420
5421
5422
5423
5424
5425
5426
5427
5428
5429
5430
5431
5432
5433
5434
5435
5436
5437
5438
5439
5440
5441
5442
5443
5444
5445
5446
5447
5448
5449
5450
5451
5452
5453
5454
5456
5457
5458
5459
5460
5461
5462
5463
5465
5466
صحيح البخاری - گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان - حدیث نمبر 4862
حدیث نمبر: 4817۔
حَدَّثَنَا
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ
، حَدَّثَنَا
يَحْيَى
، حَدَّثَنَا
سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ
، قَالَ: حَدَّثَنِي
مَنْصُورٌ
، عَنْ
مُجَاهِدٍ
، عَنْ
أَبِي مَعْمَرٍ
، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ
بِنَحْوِهِ
.
تفسیر سورت حم السجدہ! طاؤس نے ابن عباس سے نقل کیا کہ ائتیا طوعا بمعنی اعطیا یعنی تم دونوں قالتا اتینا طائعین میں اتینا سے مراد اعطینا یعنی ہم نے دیا ہے اور منہال نے سعید سے نقل کیا انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عباس سے کہا میں قرآن میں ایسی باتیں پاتا ہوں جو مجھ کو ایک دوسرے کے خلاف معلوم ہوتی ہیں اس دن ان کے درمیان رشتے ناطے نہیں ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے اور ایک دوسرے پر متوجہ ہو کر آپس میں سوال کریں گے اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپائیں گے اور اے ہمارے رب ہم مشرک نہ تھے (ان آیات میں اختلاف ظاہر ہے) اور آیت ام السماء بناھا الخ میں آسمان کی پیدائش کو زمین کی پیدائش سے قبل بیان کیا پھر اللہ نے ائنکم لتکفرون بالذی الخ میں زمین کی پیدائش کو آسمان کی پیدائش کے بعد بتایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وکان اللہ غفورا رحیما عزیزا حکیما سمیعا بصیرا (یعنی اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان تھا زبردست حکمت والا تھا سننے والا دیکھنے والا تھا) گویا پہلے (ان صفات سے متصف) تھا جو گزر چکا اب نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ فلا انساب بینھم کا تعلق نفحہ اولیٰ سے ہے تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں بے ہوش ہوجائیں گے بجز ان کے جن کو اللہ چاہے تو اس وقت ان کے درمیان نہ تو رشتے ناطے ہوں گے اور نہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے پھر دوسری بار پھونکے جانے پر ان میں سے بعض بعض سے سوال کریں گے اور اللہ تعالیٰ کا قول ما کنا مشرکین اور لا یکتمون اللہ الخ کی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اخلاص والوں کے گناہ بخش دے گا اور مشرکین کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے تو ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ وغیرہ بولیں گے اس وقت معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی اور زمین کو دو دن میں پیدا کیا پھر آسمان کو پیدا کیا پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور ان کو دو دنوں میں برابر کیا پھر زمین کو بچھایا اور زمین کا بچھانا یہ ہے کہ اس سے پانی اور چرنے کی جگہ نکالی پہاڑ اور ٹیلے وغیرہ اور جو کچھ آسمان اور زمین کے درمیان ہے دوسرے دو دنوں میں پیدا کی اللہ تعالیٰ کے قول دحاھا کا یہی مطلب ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول کہ زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا اس کی صورت یہ ہے کہ زمین کو اور اس کے اندر کی تمام چیزوں کو چار دنوں میں پیدا کیا اور آسمان دو دنوں میں پیدا کئے گئے یعنی پہلے زمین کی تخلیق ہوئی اس کے بعد آسمان کی پھر زمین کی آبادی ہوئی لہذا آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے بعد اور زمین کی آبادی سے پہلے ہوئی باقی رہا کان اللہ غفورا رحیما تو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ہی یہ رکھا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے اللہ تعالیٰ جس چیز کر بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے اس لئے قرآن میں تمہیں اختلاف نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سارا کلام اللہ کی طرف سے ہے اور مجاہد نے کہا ممنون بمعنی محسوب (شمار کیا ہوا) ہے اقوتھا یعنی اس کی روزی ہے فی کل سماء امرھا یعنی وہ کام جس کا اللہ کی طرف سے حکما دیا گیا ہے نحسات نامبارک منحوس قیضنا لھم قرناء تتنزل علیھم الملائکۃ ہم نے ان کا ہم نشین مقرر کردیا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں یعنی موت کے وقت اھتزت سر سبز ہوئی ربت بلند ہوئی دوسروں نے کہا کہ من اکمامھا سے یہ مراد ہے کہ جس وقت اپنے غلاف سے نکلتا ہے لیقولن ھذالی سے یہ مراد ہے کہ وہ کہیں گے کہ یہ میرے عمل کا بدلہ ہے اور میں اس کا سزا وار ہوں سواء للسائلین یعنی پوچھنے والوں کے لئے اس کا پورا اندازہ مقرر کیا فہدینا ہم سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو بھلائی اور برائی کا راستہ بتا دیا جیسا کہ اللہ کا قول ھدیناہ النجدین اور ھدیناہ السبیل اور ہدایت کے معنی منزل مقصود کی طرف راہنمائی کے بھی ہیں اللہ کے قول اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ میں یہی مراد ہے یوزعون روکے جائیں گے من اکمامھا کم کی جمع ہے کلی کے اوپر کے چھلکے کو کہتے ہیں ولی حیمم قریبی دوست من محیص بھاگنے کی جگہ) حاص (بھاگا) سے مشتق ہے مریہ اور مریہ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی شک و شبہ اور مجاہد نے کہا اعملوا ماشئتم (جو چاہو کرو) وعید ہے اور ابن عباس نے کہا کہ التی ھی احسن سے مراد ہے غصہ کے وقت صبر کرنا اور برائی کے وقت معاف کرنا جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو محفوظ رکھے گا اور ان کے دشمن ان کے لئے نرم ہوجائیں گے گویا وہ قریبی دوست ہیں اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے کان تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھال گواہی دے گی بلکہ تم گمان کرتے تھے کہ اللہ تمہارے بہت کاموں کو نہیں جانتا ہے۔
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔
Narrated Abdullah bin Masud (RA) : (As above, Hadith No. 341).
Top