صحیح مسلم - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 1141
حدیث نمبر: 3813
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ وَتَبِعْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولَ:‏‏‏‏ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ،‏‏‏‏ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا وَسْطَهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ،‏‏‏‏ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ لِهُ ارْقَهْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي،‏‏‏‏ فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَاهَا فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ لَهُ اسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تِلْكَ الرَّوْضَةُ:‏‏‏‏ الْإِسْلَامُ،‏‏‏‏ وَذَلِكَ الْعَمُودُ:‏‏‏‏ عَمُودُ الْإِسْلَامِ،‏‏‏‏ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ:‏‏‏‏ عُرْوَةُ الْوُثْقَى،‏‏‏‏ فَأَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَوَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ لِي خَلِيفَةُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَصِيفٌ مَكَانَ مِنْصَفٌ.
باب: عبداللہ بن سلام ؓ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر سمان نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے محمد نے اور ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصر طریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے۔ نبی کریم کے زمانے میں، میں نے ایک خواب دیکھا اور نبی کریم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے العروة مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ یہ خواب جب میں نے نبی کریم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تو اسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کا ستون ہے اور العروة (گھنا درخت) عروة الوثقى ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے۔ یہ بزرگ عبداللہ بن سلام تھے اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمد نے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہ بن سلام ؓ سے انہوں نے منصف‏. (خادم) کے بجائے وصيف کا لفظ ذکر کیا۔
Top