صحیح مسلم - تقدیر کا بیان - حدیث نمبر 2921
حدیث نمبر: 4409
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَالثُّلُثِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ.
باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے، ان سے عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ نے اور ان سے ان کے والد سعد ؓ نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ بیماری نے مجھے موت کے منہ میں لا ڈالا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے، میرا مرض اس حد کو پہنچ گیا ہے اور میرے پاس مال ہے، جس کی وارث خالی میری ایک لڑکی ہے، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا، آدھا کر دوں۔ فرمایا کہ نہیں۔ میں نے فرمایا کیا پھر تہائی کر دوں۔ نبی کریم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اگر اس سے اللہ کی رضا مقصود رہی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی تمہیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (بیماری کی وجہ سے) کیا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ (مدینہ) نہیں جا سکوں گا؟ فرمایا اگر تم نہیں جاسکے تب بھی اگر تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوئی عمل کرو گے تو تمہارا درجہ اللہ کے یہاں اور بلند ہوگا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور تم سے کچھ لوگوں (مسلمانوں) کو نفع پہنچے گا اور کچھ لوگوں (اسلام کے دشمنوں) کو نقصان پہنچے گا۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو کامل فرما اور انہیں پیچھے نہ ہٹا لیکن نقصان میں تو سعد بن خولہ رہے۔ نبی کریم نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے ظاہر فرمایا۔
Top