صحیح مسلم - حج کا بیان - حدیث نمبر 6570
وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ:‏‏‏‏ تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَسْبُكِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاذْهَبِي".
باب: عید کے دن برچھیوں اور ڈھالوں سے کھیلنا۔
اور یہ عید کا دن تھا۔ حبشہ کے کچھ لوگ ڈھالوں اور برچھوں سے کھیل رہے تھے۔ اب خود میں نے کہا یا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم یہ کھیل دیکھو گی؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا۔ میرا رخسار آپ ﷺ کے رخسار پر تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ یہ حبشہ کے لوگوں کا لقب تھا پھر جب میں تھک گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا "بس!" میں نے کہا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ۔
Top