صحیح مسلم - لعان کا بیان - حدیث نمبر 4069
حدیث نمبر: 7251
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَال:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَقْبِلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ مسجد قباء میں لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والے نے ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ رسول اللہ پر رات قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرلیں پس تم بھی اسی طرف رخ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، پھر وہ لوگ کعبہ کی طرف مڑ گئے۔
Top