صحيح البخاری - فضائل قرآن - حدیث نمبر 2210
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَکَ وَإِلَّا کَانَتْ لَکَ نَافِلَةً
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، شعبہ، ابوعمران، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے وصیت فرمائی ہے میں سنوں اور فرمانبرداری کروں اگرچہ ہاتھ پاؤں کٹا ہوا غلام ہو اور یہ کہ میں نماز کو اپنے وقت پر پڑھوں اگر تو لوگوں کو پائے کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تو نے اپنی نماز پہلے ہی پوری کرلی ورنہ وہ نماز تیرے لئے نفل ہوجائے گی۔
Abu Dharr (RA) reported: My friend (the Holy Prophet) bade me to hear and obey (the ruler) even if he is a slave having his feet and arms cut off, and observe prayer at its prescribed time. (And further said): It you find people having observed the prayer, you in fact saved your prayer, otherwise (if you join with them) that would be a Nafl prayer for you.
Top