صحیح مسلم - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5784
حدیث نمبر: 2701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ مُعْتَمِرًا، ‏‏‏‏‏‏فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَحَرَ هَدْيَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سُيُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا، ‏‏‏‏‏‏فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ.
باب: مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان۔
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے، تو کفار قریش نے آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا۔ اس لیے آپ نے قربانی کا جانور حدیبیہ میں ذبح کردیا اور سر بھی وہیں منڈوا لیا اور کفار مکہ سے آپ نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ آپ آئندہ سال عمرہ کرسکیں گے۔ تلواروں کے سوا اور کوئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں گے۔ (اور وہ بھی نیام میں ہوں گی) اور قریش جتنے دن چاہیں گے اس سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہر سکیں گے۔ (یعنی تین دن) چناچہ آپ نے آئندہ سال عمرہ کیا اور شرائط کے مطابق آپ مکہ میں داخل ہوئے، پھر جب تین دن گزر چکے تو قریش نے مکے سے چلے جانے کے لیے کہا اور آپ وہاں سے واپس چلے آئے۔
Top