صحيح البخاری - طلاق کا بیان - حدیث نمبر 3862
حدیث نمبر: 4120
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ. ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ،‏‏‏‏ وَالنَّضِيرَ،‏‏‏‏ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ،‏‏‏‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ،‏‏‏‏ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ:‏‏‏‏ كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ،‏‏‏‏ لَا يُعْطِيكَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا،‏‏‏‏ أَوْ كَمَا قَالَتْ:‏‏‏‏ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ لَكِ كَذَا،‏‏‏‏ وَتَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ،‏‏‏‏ حَتَّى أَعْطَاهَا حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ،‏‏‏‏ أَوْ كَمَا قَالَ.
باب: غزوہ احزاب سے نبی کریم ﷺ کا واپس لوٹنا اور بنو قریظہ پر چڑھائی کرنا اور ان کا محاصرہ کرنا۔
ہم سے عبداللہ ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری (رح) فرماتے ہیں) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ بطور ہدیہ صحابہ ؓ اپنے باغ میں سے نبی کریم کے لیے چند کھجور کے درخت مقرر کردیئے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہوگئے (تو نبی کریم نے ان ہدایا کو واپس کردیا) میرے گھر والوں نے بھی مجھے اس کھجور کو، تمام کی تمام یا اس کا کچھ حصہ لینے کے لیے آپ کی خدمت میں بھیجا۔ آپ ﷺ نے وہ کھجور ام ایمن ؓ کو دے دی تھی۔ اتنے میں وہ بھی آگئیں اور کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہنے لگیں ‘ قطعاً نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ پھل تمہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نبی کریم مجھے عنایت فرما چکے ہیں۔ یا اسی طرح کے الفاظ انہوں نے بیان کئے۔ اس پر نبی کریم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے بدلے میں اتنے لے لو۔ (اور ان کا مال انہیں واپس کر دو ) لیکن وہ اب بھی یہی کہے جا رہی تھیں کہ قطعاً نہیں، خدا کی قسم! یہاں تک کہ نبی کریم نے انہیں، میرا خیال ہے کہ انس ؓ نے بیان کیا کہ اس کا دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا (پھر انہوں نے مجھے چھوڑا) یا اسی طرح کے الفاظ انس ؓ نے بیان کئے۔
Top