صحیح مسلم - - حدیث نمبر 2962
اس باب کے تحت کوئی حدیث نہیں ہے
باب
نبی کریم ﷺ نے جب عمرہ کرنا چاہا تو آپ نے مکہ میں داخلہ کے لیے مکہ کے لوگوں سے اجازت لینے کے لیے آدمی بھیجا۔ انہوں نے اس شرط کے ساتھ ( اجازت دی ) کہ مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہ کریں۔ ہتھیار نیام میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں اور ( مکہ کے ) کسی آدمی کو اپنے ساتھ ( مدینہ ) نہ لے جائیں ( اگرچہ وہ جانا چاہے ) انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان شرائط کو علی بن ابی طالب ؓ نے لکھنا شروع کیا اور اس طرح "یہ محمد اللہ کے رسول کے صلح نامہ کی تحریر ہے۔" مکہ والوں نے کہا کہ اگر ہم جان لیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کو روکتے ہی نہیں بلکہ آپ پر ایمان لاتے، اس لیے تمہیں یوں لکھنا چاہئے، "یہ محمد بن عبداللہ کی صلح نامہ کی تحریر ہے"۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ گواہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔ آپ ﷺ لکھنا نہیں جانتے تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دے۔ علی ؓ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! یہ لفظ تو میں کبھی نہ مٹاؤں گا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے دکھلاؤ، راوی نے بیان کیا کہ علی ؓ نے آپ ﷺ کو وہ لفظ دکھایا۔ اور آپ ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا۔ پھر جب آپ ﷺ مکہ تشریف لے گئے اور ( تین ) دن گزر گئے تو قریش علی ؓ کے پاس آئے اور کہا کہ اب اپنے ساتھی سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں ( علی ؓ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس کا ذکر آپ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں، چنانچہ آپ وہاں سے روانہ ہو گئے۔
Top