صحیح مسلم - خرید وفروخت کا بیان - حدیث نمبر 4937
حدیث نمبر: 5825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ :‏‏‏‏ وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَكَتْ إِلَيْهَا وَأَرَتْهَا خُضْرَةً بِجِلْدِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا يَلْقَى الْمُؤْمِنَاتُ لَجِلْدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ ثَوْبِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَمِعَ أَنَّهَا قَدْ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنَانِ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا لِي إِلَيْهِ مِنْ ذَنْبٍ إِلَّا أَنَّ مَا مَعَهُ لَيْسَ بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَذَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ الْأَدِيمِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهَا نَاشِزٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَإِنْ كَانَ ذَلِكِ لَمْ تَحِلِّي لَهُ أَوْ لَمْ تَصْلُحِي لَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَبْصَرَ مَعَهُ ابْنَيْنِ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَنُوكَ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا الَّذِي تَزْعُمِينَ مَا تَزْعُمِينَ فَوَاللَّهِ لَهُمْ أَشْبَهُ بِهِ مِنَ الْغُرَابِ بِالْغُرَابِ.
سبز کپڑوں کا بیان
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور انہیں رفاعہ ؓ نے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ پھر ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی ؓ نے نکاح کرلیا تھا۔ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ وہ خاتون سبز اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، انہوں نے عائشہ ؓ سے (اپنے شوہر کی) شکایت کی اور اپنے جسم پر سبز نشانات (چوٹ کے) دکھائے پھر جب رسول اللہ تشریف لائے تو (جیسا کہ عادت ہے) عکرمہ نے بیان کیا کہ عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ عائشہ ؓ نے (نبی کریم سے) کہا کہ کسی ایمان والی عورت کا میں نے اس سے زیادہ برا حال نہیں دیکھا ان کا جسم ان کے کپڑے سے بھی زیادہ برا ہوگیا ہے۔ بیان کیا کہ ان کے شوہر نے بھی سن لیا تھا کہ (ان کی) بیوی نبی کریم کے پاس گئی ہے چناچہ وہ بھی آگئے اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے ان سے پہلی بیوی کے تھے۔ ان کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے ان سے کوئی اور شکایت نہیں البتہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں جس سے میرا کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر اشارہ کیا (یعنی ان کے شوہر کمزور ہیں) اس پر ان کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ! واللہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں تو اس کو (جماع کے وقت) چمڑے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں مگر یہ شریر ہے، یہ مجھے پسند نہیں کرتی اور رفاعہ کے یہاں دوبارہ جانا چاہتی ہے۔ نبی کریم نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو تمہارے لیے وہ (رفاعہ) اس وقت تک حلال نہیں ہوگا جب تک یہ (عبدالرحمٰن دوسرے شوہر) تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ دو بچے بھی دیکھے تو دریافت فرمایا کیا یہ تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم نے فرمایا: اچھا، اس وجہ سے تم یہ باتیں سوچتی ہو۔ اللہ کی قسم یہ بچے ان سے اتنے ہی مشابہ ہیں جتنا کہ کوا کوے سے مشابہ ہوتا ہے۔
Top