صحيح البخاری - - حدیث نمبر 4730
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَی مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ وَزَادَ قَالَ أَلَّا کُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُکَ أَوْ لَمْ أَکُنْ لِأُحَدِّثَکَ
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، یونس، حسن بن زیاد، معقل بن یسار، حضرت حسن ؓ سے روایت ہے کہ ابن زیاد معقل بن یسار ؓ کے پاس حاضر ہوا اور وہ تکلیف میں تھے باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث آج سے پہلے کیوں نہ بیان کی؟ معقل نے فرمایا میں نے تیرے لئے بیان نہ کی یا فرمایا میں تجھے یہ بیان نہ کرتا۔
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Hasan who said: Ibn, Ziyad paid a visit to Maqil bin Yasir who was seriously ill. Here follows the same tradition as has gone before with the addition that Ibn Ziyad asked: Why didnt you narrate this tradition to me before this day? Maqil reprimanded him and said: I did not narrate it to you or I was not going to narrate it to you.
Top