سنن ابو داؤد - کتاب الزکوٰة - حدیث نمبر 1801
حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ وَکَانَ يُقَالُ لَهُ الْکَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ وَالْکَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَالْکَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ وَالشَّامِيَّةِ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَکَسَرْنَاهُ وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کے فضائل کے بیان میں
عبدالحمید ابن بیان خالد بیان حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ دور جاہلیت میں ایک گھر تھا جسے ذوالخلصہ کہا جاتا تھا اور اسی کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو مجھے ذوالخلصہ اور کعبہ یمانہ اور شامیہ کی فکر سے آرام پہنچائے گا پس میں قبیلہ احمس سے ایک سو پچاس آدمیوں کو لے کر اس کی طرف چل پڑا ہم نے اسے توڑ دیا اور جسے اس کے پاس پایا اسے قتل کردیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے ہمارے لئے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔
Jabir reported that there was in pre-Islamic days a temple called Dhul- Khalasah and it was called the Yamanite Ka’bah or the northern Ka’bah. Allahs Messenger ﷺ said unto me: Will you rid me of Dhul-Khalasah and so I went forth at the head of 35O horsemen of the tribe of Ahmas and we destroyed it and killed whomsoever we found there. Then we came back to him (to the Holy Prophet) and informed him and he blessed us and the tribe of Ahmas
Top