سنن ابو داؤد - - حدیث نمبر 713
حدیث نمبر: 1571
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ مَالِكٌ:‏‏‏‏ وَقَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، ‏‏‏‏‏‏هُوَ أَنْ يَكُونَ لِكُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعُونَ شَاةً، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَظَلَّهُمُ الْمُصَدِّقُ جَمَعُوهَا لِئَلَّا يَكُونَ فِيهَا إِلَّا شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ أَنَّ الْخَلِيطَيْنِ إِذَا كَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةُ شَاةٍ وَشَاةٌ فَيَكُونُ عَلَيْهِمَا فِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَظَلَّهُمَا الْمُصَدِّقُ فَرَّقَا غَنَمَهُمَا فَلَمْ يَكُنْ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَّا شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ.
چرنے والے جانوروں کی زکوة کا بیان
عبداللہ بن مسلمہ کہتے ہیں کہ مالک نے کہا: عمر بن خطاب ؓ کے قول جدا جدا مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور نہ اکٹھے مال کو جدا کیا جائے گا کا مطلب یہ ہے: مثلاً ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، جب مصدق ان کے پاس زکاۃ وصول کرنے آئے تو وہ سب اپنی بکریوں کو ایک جگہ کردیں تاکہ ایک ہی شخص کی تمام بکریاں سمجھ کر ایک بکری زکاۃ میں لے، اکٹھا مال جدا نہ کئے جانے کا مطلب یہ ہے: دو ساجھے دار ہوں اور ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہوں (دونوں کی ملا کر دو سو دو ) تو دونوں کو ملا کر تین بکریاں زکاۃ کی ہوتی ہیں، لیکن جب زکاۃ وصول کرنے والا آتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کرلیتے ہیں، اس طرح ہر ایک پر ایک ہی بکری لازم ہوتی ہے، یہ ہے وہ چیز جو میں نے اس سلسلے میں سنی ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٩٢٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١١ (٢٣) (صحیح )
Top