گھوڑوں کے کونسے رنگ پسندیدہ ہیں
ابو وہب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو ١ ؎، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں: میں نے عقیل سے پوچھا: سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا۔
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٩) (حسن )
وضاحت: ١ ؎: أشقر سرخ گھوڑے کو کہتے ہیں، اور اس کی دم بھی سرخ ہوتی ہے، اور كميت کی دم اور بال سیاہ ہوتے ہیں۔
Narrated Abu Wahb (RA) : The Prophet ﷺ said: Keep to every sorrel horse with a white blaze and white on the legs, or dark bay with a white blaze. He then mentioned something similar. Muhammad ibn al-Muhajir said: I asked him: Why was a sorrel horse preferred? He replied: Because the Prophet ﷺ had sent a contingent, and the man who first brought the news of victory was the rider of a sorrel horse.
Top