Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3855 - 3925)
Select Hadith
3855
3856
3857
3858
3859
3860
3861
3862
3863
3864
3865
3866
3867
3868
3869
3870
3871
3872
3873
3874
3875
3876
3877
3878
3879
3880
3881
3882
3883
3884
3885
3886
3887
3888
3889
3890
3891
3892
3893
3894
3895
3896
3897
3898
3899
3900
3901
3902
3903
3904
3905
3906
3907
3908
3909
3910
3911
3912
3913
3914
3915
3916
3917
3918
3919
3920
3921
3922
3923
3924
3925
مشکوٰۃ المصابیح - دعاؤں کا بیان - حدیث نمبر 4249
وعن أبي ريحانة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عشر : عن الوشر والوشم والنتف وعن مكامعة الرجل الرجل بغير شعار ومكامعة المرأة المرأة بغير شعار وأن يجعل الرجل في أسفل ثيابه حريرا مثل الأعاجم أو يجعل على منكبيه حرير مثل الأعاجم وعن النهبى وعن ركوب النمور ولبوس الخاتم إلا لذي سلطان . رواه أبو داود والنسائي
دس باتوں کی ممانعت
اور حضرت ابوریحانہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے دانتوں کو تیز کرنے سے، جسم کے کسی حصہ کو گودنے سے، بال اکھاڑ نے سے، مرد کو مرد کے ساتھ سونے سے اگر درمیان میں کپڑا حائل نہ ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ مرد اپنے کپڑے کے نیچے ریشم (کا استر) لگائے جیسا کہ عجمی لوگ لگاتے ہیں یا عجمی لوگوں کی طرح مونڈھوں پر ریشمی کپڑا لگائے اور آپ ﷺ نے کسی کا مال لوٹنے سے اور چیتے کی زین پر سونے سے منع فرمایا نیز آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص مہر والی انگوٹھی پہنے الاّ یہ کہ وہ صاحب حکومت ہو۔ (ابوداؤد، نسائی)
تشریح
عرب میں یہ دستور تھا کہ بوڑھی عورتیں، جوان عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے کے لئے اپنے دانت کے کناروں کو تیز اور باریک کیا کرتی تھیں لہٰذا آپ ﷺ نے اس نے منع فرمایا اسی طرح ایک رواج یہ بھی تھا کہ عورتیں اپنے جسم کے کسی بعض حصوں کو سوئی سے گود کر اس میں نیل یا سرمہ بھر دیتی تھیں (جیسا کہ ہمارے یہاں بھی بعض غیر مسلم میں یہ دستور ہے کہ جسم کے کسی حصہ خاص طور سے ہاتھ پر نام وغیرہ گودتے ہیں) آپ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا۔ بال اکھاڑنے سے منع فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ آرائش وزینت کی خاطر داڑھی اور سر کے سفید بال چننا ممنوع ہے یا یہ کہ عورتوں کا اپنے چہرہ یعنی پیشانی کے بال چننا ممنوع ہے ان چیزوں کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ان سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تغیر کرنا لازم آتا ہے دوسرے یہ چیزیں آرائش وزینت کے لئے بےجا اور برے قسم کے تکلفات کا مرتکب ہونے کا باعث ہیں اگرچہ زیب وزینت اختیار کرنا عورتوں کے لئے جائز ہے مگر اس طرح کے مذموم تکلفات ان کے لئے بھی ممنوع ہیں۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں بال اکھاڑنے سے مراد یہ ہے کہ کسی حادثہ و مصیبت کے وقت شدت جذبات سے مغلوب ہو کر اپنے سر اور داڑھی کے بال نوچنا ممنوع ہے۔ مرد کا مرد کے ساتھ سونے۔۔۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب حدیث کے ظاہری مفہوم کے مطابق تو یہی ہے کہ دو مرد ایک کپڑے (یعنی ایک چادر و لحاف وغیرہ میں ) اس طرح سوئیں کہ دونوں بالکل ننگے ہوں، یا ان کے صرف ستر ڈھکے ہوئے ہوں تو یہ بالکل ممنوع ہے یا یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس ممانعت کا تعلق صرف اس صورت سے ہو جب کہ دونوں کے ستر بھی ڈھکے ہوئے نہ ہوں یہی دونوں احتمال عورتوں کے بارے میں بھی ہیں اگر وہ عورتوں کا باہم اس طرح سونا کسی فتنہ و شرانگیزی کا خوف نہ ہو تب بھی یہ صورت تہذیب و شائستگی اور ادب و اخلاق کے منافی اور بےحیائی و بےشرمی کی غماز تو بہر حال ہو ہی گی۔ مرد اپنے کپڑے کے نیچے ریشم کا استر لگائے کا مطلب یہ ہے کہ ریشم کا کپڑا پہننا مرد کے لئے قطعا حرام ہے خواہ وہ کپڑا ایسے لباس کی صورت میں کیوں نہ ہو کہ اس کے اوپر کا حصہ سوتی اور اس کا استر ریشمی ہو یا اس کے اوپر کا حصہ تو ریشمی ہو اور اس کا استر سوتی ہو چناچہ صحیح قول یہی ہے۔ مونڈھوں پر ریشمی کپڑا لگانے کا مطلب یہ ہے کہ کرتے یا جبہ وغیرہ کے مونڈھوں پر بطور سنجاف (بیل) ریشمی کپڑا لگانا یا ریشم کا کام کرنا ایسی صورت میں جائز ہے جب کہ اس کی مقدار چار انگشت تک ہو، چار انگشت سے زائد کی صورت میں ممنوع ہوگا نیز ہوسکتا ہے کہ اس جملہ سے یہ مراد ہو کہ کاندھوں پر دوپٹے کی طرح از راہ تکبر و اتراہٹ ریشمی کپڑا ڈالنا ممنوع ہے۔ چیتے کی کھال کی زین پر سوار ہونے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس میں متکبرین کی مشابہت ہے۔ بعض مشائخ نے کہا ہے کہ چوپایوں اور درندوں کی کھال پر بیٹھنے سے ان چوپایوں و درندوں کی خاصیتیں جیسے وحشت و درندگی وغیرہ سرایت کر جاتی ہیں۔ الاّ یہ کہ وہ صاحب حکومت ہو۔ یعنی جیسے بادشاہ، قاضی اور حاکم وغیرہ۔ حاصل یہ کہ مہر والی انگوٹھی کو بلا ضرورت کے محض زینت کی خاطر پہننا مکروہ تنزیہی ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے بایں دلیل کہ حضرت عمر ؓ اور دوسرے خلفاء کے زمانہ میں صحابہ مہر والی انگوٹھی پہنا کرتے تھے اور کوئی اس کو خلاف نہیں کہتا تھا۔
Top